نماز کا طریقہ

×

Error message

Deprecated function: Function create_function() is deprecated in views_php_handler_field->pre_render() (line 202 of /var/www/drupal7-websites/sites/all/modules/contrib/views_php/plugins/views/views_php_handler_field.inc).

  1. نیت 

نیت   نماز کے صحیح ہو نے کے لیئے  شرط  ہے یعنی آدمی  دل سے  نماز کے ذریعہ   اللہ کی عبادت  کا قصد کرے در انحالیکہ وہ جانتا ہے کہ  نماز مغرب  کی ہے یا عشاء کی ہے  اس نیت کو لفظ   میں  ادا کرنا  غیر  مشروع ہے  بلکہ قلبی  اور ذھنی  طور  پر  نیت  مطلوب  ہے  اور ایسی   کوئ  بات  نہ نبی ﷺ  سے آئ ہے اور نہ صحابہ کرام ؓ سے منقول ہے   ۔

  1. نماز کے لیئے کھڑا ہو جائے اور یہ  کہے :(اللہ اکبر )

اور دونوں ہاتھوں کو  یا تو کانوں یا دونوں  مونڈھوں   تک لے جائے  , ہتھیلی کو قبلہ  کی طرف رکھے ۔

تکبیر اس لفظ  (اللہ اکبر )کے بغیر جائز نہیں  اس کا مطلب  اللہ کی عظمت  اور اس کی بڑ ھا ئ بیان کرنا  ہے , اللہ ہر چیز  سے بڑا ہے دنیا  و ما فیھا  کی شہوتوں اور لذّ توں  سے  بھی بڑا  ہے , ان تمام چیزوں  کو ایک طرف پھینک  دیں  اور  نماز میں  اتنے  دل وعقل  کے ساتھ  اللہ کی طرف جو بلند وبالا ہے متوجہ ہوں ۔

  1. تکبیر کہنے کے بعد اپنا سیدھا ہاتھ بائیں ہاتھ پر باندھے اور قیام کی حالت میں   ہمیشہ  ایسا کریں  ۔
  1.  ثناء  پڑھے بطور استحباب :۔ (سبحانك اللهم وبحمدك, وتبارك اسمك, وتعالى جدك, ولا إله غيرك)۔ (ترجمہ  )پاک ہے تو ائے اللہ  اپنی خوبیوں کے ساتھ  اور  با برکت ہے نام تیرا  اور  بلند ہے شان تیری   اورنہیں  کوئ معبود تیرے سوا ۔.
  1.  یہ کہے : (اعوذ باللہ من الشیطان الر جیم  )یہ تعوذ ہے  جس کا  مطلب ہے  اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان کے  شر سے   ۔
  1.   یہ کہے :( بسم اللہ الر حمن الر حیم ) اس کے معنی یہ ہیں   : میں اللہ کے نام یے ابتداء کرتا ہوں اور اس کے نام  سے  استعانت ا ور  برکت  طلب کرتا ہوں ۔
  1.  سورۃ  الفاتحہ  پڑھے  ,اور فاتحہ قرآن کی عظیم سورت  ہے  ۔
  •   اللہ نے اپنے رسول پر  اس سورت کو نازل کر کے اپنا احسان بتایا   :۔((یقینا ً  ہم نے  آپ کو سات  آیتیں  دے رکھی  ہیں  کہ  دہرائ  جاتی  ہیں  اور  عظیم قرآ ن دے رکھا ہے))۔( الحجر  :۸۷ )۔سبع المثانی ہی   فاتحہ ہے  ,اس کا یہ نام  اس لیئے   ہےکہ یہ سات  آیتوں پر مشتمل ہے  اور لوگ  اسے روزانہ باربار تلاوت کرتے ہیں ۔
  •  ایک مسلمان    کو اس کا سیکھنا ضروری ہے  کیونکہ امام    یا  منفرد  دونوں  کو نماز  میں  پڑھنا ضروری  ہے اور اسے مقتدی  اس نماز  میں پڑھتا ہے جس میں امام جہری قراءت نہیں کرتا  ۔
  1. سورۂ فاتحہ  یا امام کے پیچھے  اسے سننے کے بعد  آمین کہنا   مسنون ہے اور اس کے معنی  ٰ اللہ قبول فرما ۔
  1.  سورۂ  فاتحہ  کی قراءت  کے بعد ابتدائ  دو رکعتوں   میں کوئ  بھی سورت   یا کچھ  آیتوں  کس قراءت  کرے   البتہ  تیسری  اور چوتھی  رکعت  میں سورۂ فاتحہ  کی قراءت  پر اکتفاء کرے  ۔
  •  سورۂ  فاتحہ   اور ضم  سورۃ کی قراءت  فجر ,مغرب  اور عشاء  کی نماز میں جہری  ہو گی اور ظہر  اور عصر  میں سرّی  ہوگی ۔
  • نماز کے باقی اذکار   آہستہ پڑھینگے   ۔

  1.  پھر  کانوں  تک یا کند ھوں  تک  دونوں  ہاتھ   اٹھا کر اپنی  دونوں  ہتھیلیوں  کو قبلہ  رخ کرکے   رکوع کے لیئے   تکبیر کہے   جس طرح پہلی تکبیر میں کیا تھا ۔ 
  1. رکوع کرے اس طرح سے کہ اپنی پیٹھ کو جھکا ئے قبلہ کی طرف 

, اس کی پیٹھ  اور سر دونوں برابر ہوں  اپنے دونوں ہاتھو ں کو  اپنے   دونوں ہاتھو ں کو  اپنے  گھٹنوں پر رکھے اور (سبحان ربی العظیم):(پاک ہے میرا رب عظمتوں والا  ) کہے "تسبیح تین مرتبہ کہنا مستحب ہے   , رکوع اللہ تعالیٰ  کی عظمت  اور بڑائ کے اظہار کی جگہ ہے  ۔

(سبحان ربی العظیم  )کے معنی  ٰ :میں اللہ عظیم  کی پاکی  بیان کرتا ہوں   اسے بے عیب  سمجھتا ہوں   , میں اسے  بحالت  رکوع کہوں گا ,اللہ عزوجل  کے سامنے اپنے کو جھکا  دیتا  ہوں ۔

  1. رکوع سے قیام کی حالت  میں جائیگا  اپنے  ہاتھوں  کو قبلہ  کی طرف اپنے کندھوں  کے برابر اٹھا ئیگا   

(سمع اللہ  لمن حمدہ  )کہتے ہوئے   امام ہو یا منفرد ہو پھر سب یہ کہیں گے   ( ربنا و لک الحمد ) (ائے ہمارے رب  تیرے لیے ہی تمام تعریفیں  ہیں  )یہ اضافہ کرنا مستحب ہے(حمدا ً  کثیرا  طیبا مبارکا  فیہ ,ملءالسماء و مل ءالأرض  وملء ما شئت من شیء بعد) (۔بہت پاکیزہ  تعریفیں  برکت  کی گئ اس میں آسمان بھرزمین بھر اور جتنا آپ چاہیں   ۔۔۔۔  )۔

  1. تکبیر کہتے  ہوئے سجدہ میں  جائے اور (۷) اعضاء پر سجدہ کرےاور  وہ یہ ہیں

پیشانی اس میں   ناک شامل  ہے  ,دونوں ہاتھ  ,دونوں گھٹنے ,دونوںپیر ,اور مستحب   یہ ہے کہ  دونوں  ہاتھوں کو اپنے  دونوں بازوؤں  سے  ,پیٹ  کو دونوں رانوں  سے اور رانوں کو دونوں  پیروں سے سجدہ  میں دور رکھے  اور کہنیوں کو زمین سے اٹھا کر  رکھے ۔

  1. سجدہ میں یہ کہے   

(سبحان  ربی الأعلیٰ  )(پاک ہے  میرا رب بلند  تر ) تین مرتبہ کہنا مستحب ہے  ۔

( سبحان ربی الأعلیٰ ) کے معنی  اللہ کی بڑائ  بیان کرتا ہوں  تو اپنی عظمت  اور مقام  و مرتبت میں بلند وبرتر ہے  اور  تمام عیبوں سے پاک آسمانوں کے اوپر ہے  ,اس میں  زمین سے لگ کرذلّت و انکساری کے ساتھ سجدہ  کر نے والے کے لیئے  تنیہ کی بات ہے تا کہ وہ اپنے اور خالق کے درمیان فرق کو یاد کرے جو اسے اپنے رب کے سامنے أ نابت اور اپنے مولیٰ کے سامنے انکساری کا باعث ہو ۔

سجدہ اللہ عزوجل سے دعاء کرنے کے لیئے عظیم مقام ہے  ,چنانچہ مسلمان اس میں ضروری ذکر کے بعد  دنیا و آخرتکی بھلائ طلب  کرتا ہے , آپ ﷺنے فرمایا‎:۔   ((سب سے  زیادہ  قریب  بندہ  اپنے رب سے  اس  وقت   ہو تا ہے   جب  وہ  سجدہ کی حالت میں  ہو  , اس لیئے  دعاء  کثرت سے  کرو  ))  (مسلم :۴۸۲ )  ۔

  1. پھر  (اللہ اکبر )کہے   

اور دونوں سجدوں کے درمیان  بیٹھ جائے  ,اور یہ مستحب ہے  کہ بائیں  پیر پر بیٹھے  اور سیدھا پیر کھڑا کرے  اور دونوں  ہاتھوں  کو گھٹنےسے لگ کر را ن  کے حصّہ پر   رکھے  ۔

  •  نماز کے تمام حصّوں  میں یہی بیٹھنے کا طریقہ  مستحب ہے  بجزء  آخری تشہد  کے اس  کے باوجود  سیدھے کھڑا  کر سک تا ہے  لیکن  نیچے  سے بائیں پیر کو نکالے  جب کہ زمین پر بیٹھک ہو گی ۔
  1. دو سجدوں کے درمیان   جلسہ  میں یہ بولے  :( رب اغفر لی  ) ,تین مرتبہ  ایسا کہنا مستحب ہے  ۔
  1. پہلے  سجدہ   کی طرح  دوسری  بار سجدہ کرے  ۔
  1. پھر دوسرے سجدہ  سے  قیام  کی طرف  (اللہ اکبر  ) کہبے ہوئے اٹھے  ۔
  1. دوسری رکعت پہلی رکعت کی طرح  مکمل کرے  ۔
  1. دوسری رکعت کے بعد سجدہ مکمل ہونے پر پہلے قعدہ  میں بیٹھے  اور یہ کہے 

.( التحيات لله والصلوات والطيبات, السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته, السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين, أشهد أن لا إله إلا الله, وأشهد أن محمدا عبده ورسوله). ۔(عظمت وسلامتی الله كى لیئے هے اور دعا وعبادت کا مستحق  اور پاکیزہ کلمات کا سزا وار بھی  وہی ہے   سلام ہو آپ پر اے نبی  اور اللہ کی رحمت اور اس کی  برکتیں   ,سلام ہو ہم پر  اور اللہ کے  نیک بندوں پر   میں گواہی دیتا ہوں  اس  بات کی کہ  نہیں کوئ معبود مگر اللہ کے  اور  میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ  اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں  )  

  1. پھر باقی نماز  تین یا چار  

  رکعات  والی ہو تو مکمل کرے البتہ تیسری اور  چوتھی  رکعت میں  سورۂ ٔ فاتحہ  کی قراءت  پر اکتفاء کرے  ۔

  •  اگر نماز دو رکعت والی ہو  جیسے نماز فجر  تو اس میں  آخری  قعدہ  ہو گا جیسا کہ  اس کا بیان  آئیگا   ۔

  1. آخری رکعت کے   دوسرے  سجدہ  کے بعد  آخری  قعدے   میں  بیٹھے   

اور اس کا  طریقہ  پہلے  قعدے  کی طرح ہے البتہ اس میں  درود ابراھیم کا  اس طریقہ پر اضافہ کرے   : ( على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد).

  •  اس کے بعد یہ کہنا مستحب ہے  :( اللهم صلّ على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد, وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت أعوذ بالله من عذاب جهنم, ومن عذاب القبر, ومن فتنة المحيا والممات, ومن فتنة المسيح الدجال))((ائے اللہ  محمد ﷺ پر  اور آل محمد ﷺ پر رحمت نازل فر ما  جیسے تو نے  ابراہیم  علیہ السلام اور آل ابراہیم پر رحمتیں  نازل کیں  بے شک تو  تعریف کے قابل ہے  بزرگی والا ہے  ,اور برکت نازل فرما  محمد ﷺ  اور آل محمد پر  جیسے  تو نے برکتیں نا زل کیں ,میں  اللہ کی پناہ  میں  آتا ہوں  جہنم کے عذاب سے,اور قبر کے عذاب سے  ,اور  زندگی اور موت کے فتنہ سے ,اور  مسیح دجّال  کے  فتنہ سے ))   اور  جو  چاہے  دعاء کرے _
  1. پھر سیدھی جانب  چہرے کو پھیرے  اور یہ کہے

( السلام علیکم  ورحمۃ اللہ)(( سلام ہو تم پر  اور  اللہ کی رحمت ہو )) پھر  بائیں جانب  ایسے ہی کہے   ۔سلام کہہ کر   مسلمان  اپنی نماز سے فارغ ہوتا ہے جیسا کہ   آپ ﷺ   نے فرمایا : ۔(( نمازکی تحریم تکبیر ہے  اور اس کی تحلیل  سلام ہے  )) ۔   (ابو داؤد :۶۱ ,ترمذی :۳ )یعنی نماز میں   تکبیر  تحریمہ   سے داخل ہوتا ہے  اور سلام  کر کے  نماز  سے نکلتا ہے  ۔

  1.  فرض  نماز  کے سلام  کے بعد مسلمان کے لیئے  مستحب ہے کہ  یہ کہے  :
  1. (استغفراللہ  ) تین مرتبہ  ۔
  2. ويقول: (اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام), (اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد).((ائے  اللہ تو ہی سلام ہے  اور  تیری ہی طرف سے سلامتی  ہے تو بہت با برکت ہے  ائے صاحب جلالت و عزت  ),(ائے اللہ  نہیں کوئ روک سکتا  اس چیز کو  جو تو دے  او ر نہیں کوئ دے سکتا  اس کو جسے تو  روک لے  او ر نہیں نفع دے سکتی کسی صاحب حیثیت  کو  تیرے عذاب  سے اس کی  حیثیت )۔
  3. پھر  (سبحان اللہ )۳۳ مرتبہ  ,(الحمد للہ  )۳۳ مرتبہ ,(اللہ اکبر  )۳۳ مرتبہ  ,کہے  اور۱۰۰ ویں مرتبہ   (لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير)( نہیں ہے کوئ معبود  مگر اللہ کے وہ اکیلا ہے  نہیں کوئ شریک اس کا  اسی کے لیئے بادشاہی ہے  او راسی کے لیئے  تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ).کہہ کر مکمل کر ے  ۔

وہ شخص کیا کرے جسے سورہ فاتحہ اور نماز کے اذکار یاد نہ ہوں؟ 

  • اس پر ضروری ہے کہ وہ صلاۃ کی واجبی دعاؤں کو یاد کرنے کی پوری کوشش کرے کیونکہ صلاۃ صرف عربی زبان میں ہی درست ہوگی، اور وہ (واجبی اذکار) یہ ہیں :
 فاتحہ اور تکبیر تحریمہ، (سبحان ربي العظيم)، (سمع الله لمن حمده)، (ربنا لك الحمد)، (سبحان ربي الأعلى)، (ربي اغفرلي)، تشہد اور نبى صلى الله عليه وسلم پر درود، السلام عليكم ورحمة الله.
 
  •  ایک مسلمان جس نے ابھی دعائیں یاد نہیں کی ہیں اس پر ضروری ہے کہ جو تسبیحات و تحمیدات اور تکبیرات اسے یاد ہیں انہیں کو نماز میں دہراتا رہے۔ یا وہ آیت جو اسے یاد ہے اسے ہی حالت قیام میں لوٹاتا رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ]‘‘تم اللہ تعالیٰ سے اپنی طاقت کے مطابق ڈرو’’ 
  • اس کے لئے مناسب یہی ہے کہ اس وقفہ میں صلاۃ باجماعت کا اہتمام کرے تاکہ وہ اپنی صلاۃ کو پختہ کرسکے، کیونکہ امام کسی حد تک مقتدی کی کوتاہی کا ذمہ دار ہوسکتا ہے۔

آسان رہنمائے مسلم

آسان رہنمائے مسلم کی ویب سائٹ کتاب "آسان رہنمائے مسلم" کا الکٹرانک نسخہ ہے۔ یہ شرکۃ الدلیل المعاصر کا ایک پروجیکٹ ہے، جسے زائد از پندرہ زبانوں میں تیار کیا گیا ہے، اور اس کے مشمولات متعدد معیاری الکٹرانک شکلوں میں موجود ہیں۔