You are here

اسلام میں شریعت کے مصادر :

اسلامی شریعت اور اس کے  احکا م کی جانکا ری کے لیے مسلمان  چند  اصول اور  بڑی  دلیلیں اپناتے  ہیں  جن سے   وہ ہو نے والے واقعات کا علم  مستنبط کر تے  ہیں  کہ آ یا وہ  حلال  ہے یا حرام  ہے ۔۔ 

شریعت کی کئ دلیلیں حسب  ذیل ہیں  :

  1. قرآن کریم

 اللہ کی نازل کر دہ کتاب جو بندوں کے لیئے   بطور  ہدایت  و و ضاحت  او ر حق  و باطل  میں فرق  کر نے والی  بھیجی گئی ہے  ۔ ا ور وہ کسی  بھی تبدیلی  سے  محفوظ کر دی گئ ہے  اس کتاب  میں اللہ نے جو بھی  حکم دیا   یا منع کیا   مسلمانوں پر  یہ فرض  ہے کہ وہ اس   امر و نہی  کے تقاضے  کو  پورا  کریں  , جب اس نے  یہ کہا  : (اورنماز قائم کرو)   (النور_۵۶)نماز کی فرضیت  کا یقینی  علم ہو گیا  ۔

اور  جب یہ کہا  :(خبر دار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا ) (الاسراء ۔۳۲) زنا کی حرمت کا یقینی علم ہو گیا  ۔۔ جب  اللہ  نے قرآن  میں کسی بھی تبدیلی  سے  حفاظت کا ذ مّہ لیا  تو ہمیں  آیت کا مقصد جاننے کی ضرورت  ہو تی ہے ۔

  1. سنت نبوی  

ہر وہ چیز جو نبی ﷺ سے  ثا  بت ہو جائے  چا ہے وہ آپ ﷺ کے افعال ہوں یا  تقاریر ہوں ;  یا اخلاق ہوں ;  چنانچہ نبی ﷺ کا یہ  قول ثابت  ہوگیا  ; ((بھتیجی اور پھوپی , بھانجی اور خا لہ کو  ایک نکاح میں جمع نہیں  کیا جا سکتا )) ۔(۵۱۰۹)۔ہمیں یہ بات معلوم ہو گئ کہ یہ  بات  جائز نہیں  کہ کوئ شخص  کسی عورت سے  شادی  کرے  پھر  اس عورت  کی پھوپھی  یا اس کی  خالہ سے  شادی کرے  ۔

رسول اللہ ﷺ کی سنت سے وہ حدیث ثابت ہو  ,علمائے کرام نے بڑی محنتیں صرف کی ہیں  اور سنت نبوی کے مطا لعہ  میں دقیق  اور ماہرانہ طریقوں   سے جانچنے  کی کو شش کی  اور صحیح  حدیث  جو ثقہ  او ر حفاظ محدثین  سے ثابت  ہوئ  اسے انہوں نے  ان حدیثوں  سے الگ  کر لیا  جن کا  آپ ﷺ کی سنت  سے تعلق  نہیں ہے جو  یا تو غلطی  سے یا وہم کی بناء پر  یا جسے  دشمنان اسلام نے  گڑھ لیا ہو  ۔

  • وہ حدیث  جو معنی مقصو د  پر دلالت کر تی ہو  ۔ کبھی تو دلالت  واضح او رصریح  ہوتی ہے جس کے معنی میں کوئ اختلاف   نہیں  ہوتا  اور کبھی  ایک سے  زائد  معنی  پر  محتمل  ہو تی ہے ۔یا اس کے معنی سمجھ میں  نہیں  آتے  تا آنکہ  دوسری حدیث  کے ساتھ  اسے جوڑ  نہ لیا جائے ۔
  • دلالة الحديث على المعنى المقصود, وقد تكون الدلالة صريحة واضحة لا يختلف في معناها, وقد تكون محتملة أكثر من معنى, أو لا تفهم إلا بضمها إلى حديث آخر.
  1. ‬الإجماع‭: ‬

۳- اجماع :کسی بھی زمانے میں  کسی بھی معاملے پر   تمام علماء  کا اتفاق  ہو جائے   اسلام کے اکثر احکام  اور قوانین  ایسے  ہیں  جن پر  علمائے اسلام نے  اتفاق  کیا ہے اور اس میں اختلاف  واقع  نہیں  ہوا  ہے جیسے ; نماز کی رکعتیں  ,روزے  کے وقت کی ابتداء اور اس کے کھو لنے کا وقت  او رسونے اور چاندی  کی زکاۃ  کا نصاب  وغیرہ ۔

کسی قول پر صحابہ ؓ یا ان کے بعد والے اتفاق  کر لیں  تو ان کا یہ اجماع اس کی صحت پر  دلیل بن جاتا ہے  کیو نکہ  امت  پوری کی پو ری  کسی غلطی  پر مجتمع  نہیں ہوتی ۔

  1.  قیاس 

کسی ایسے مسئلہ میں  جس کا حکم  قرآن و سنت میں نہیں آ یا  اسے کسی ددو سرے  مسئلہ پر  قیاس  کرنا جس کا حکم  بیان کیا گیا ہے وہی علت  او رسبب  اس  مسئلہ میں  بھی پائ جا تی  ہو , جیسے والدین کو مارنا  حرام ہے  اس قیاس  پر کہ  انھیں  ((اف ))یا  آواز کو  ان پر اونچی کرنا  حرام ہے  جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا  (( تو ان کے آگے اف  تک  نہ کہنا او رنہ انہیں  ڈانٹ ڈپٹ کر نا )) ۔(الاءسرأ۔۲۳)۔جب اللہ نے والدین سے  زور زور سے  بات کرنے کو حرام قرار  دیا تاکہ  انھیں تکلیف  نہ ہن تو  مارنا  بدرجۂ  اولیٰ حرام ہوگا  کیونکہ ایذاء دونوں میں بھی پائ جاتی ہے  ,او ریہ بڑا نازک  باب ہے جس کا  اختصاص  اہل علم  ہی رکھتے ہیں اور اسی سے مسائل  کا علم حاصل ہوتا ہے ۔ 

مصادر شریعت  میں اتفاق کے  باجود  علماء میں  اختلاف کیوں ؟

اس بات کو جاننے کے لیئے  ذیل کے ا مور کی  جانکاری ضروری ہے : 

  1. تمام اہل علم  ایمان کے مسائل  اور شریعت کے اصول  او راسلام  کے ارکان پر  متفق  ہیں البتہ اختلاف  چند  فقہی  احکام  کے تفاصیل  میں محصور ہے ۔

    تمام قواعد او راصول  احکام  پر  اہل علم  متفق  ہیں بسبب اللہ کے فضل  کے جو اس شریعت کے ساتھ  ہے ۔

  1. ۳۔فرعی اور تفصیلی امور   میں  اختلاف  کا وافع ہونا طبعی امر ہے  ۔آسمانی ہو کہ  وضعی  قانون  اختلاف  سے خالی  نہیں  ہے حتیٰ  کہ  کوئ علم   بھی  اس سے مبرّ ا نہسں  ہے علماء  قانون  اس کی تشریح و تفسیر  میں مختلف  نظر آتے ہیں  , اس کی تطبیق  کے مسئلہ میں  محکم بھی مختلف  ہیں , علماء  تاریخ اس کی  روایت کے  معاملہ میں ,ڈاکٹرس , انجیٔنر س , ماہرین  ,فنکار  کا ایک ہی موضوع  کے بارے میں  نظریاتی  اختلاف  واقع  ہوتا ہے ۔

    فرعی اور  تفصیلی امور میں  اختلاف  طبعی امر  ہے جس کا علمی او رعملی زند گی  متقاضی ہے ۔

  2. اللہ عز وجل نے  اس شخص کو  صاحب عذر سمجھا  جس نے  حق کے  حصول  کے لیئے  صحیح طریقہ اختیار کیا  لیکت  اس سے  غلطی  ہوئ  اور رسول اکرمﷺ  نے صحیح  کریقہ سے  حق کو تلاش  کر نے والے  کو ہر  دو حالت  میں اجر و ثواب  کی  خو ش  خبری  دی ہے ۔

    اگر اسے حق مل گیا تو  اسے دوگنا اجر  ہے اور  اگر  اس نے صحیح  طریقہ کو اختیار کرنے میں  پوری کوشش کے باوجود  غلطی  ہوئ تو اسے  ایک ہی اجر ملے گا  ,نبی کریم  ﷺ  نے فرمایا  :" اگرحاکم نے فیصلہ کرنے میں  اجتھاد  کیا اور درست  کیا تو اسے دوگنا اجر ہے  اور اگر  اسے  فیصلہ کرنے میں  اجتھاد  میں غلطی  ہوئ تو اسے  ایک اجر ہے۔ "((بخاری _۷۳۵۲))۔"

جب اللہ نے حضرات انبیاء  داؤد  علیہ السلام  اور سلیمان علیہ السلام  کا قصّہ  بیان کیا  چنانچہ  فیصلہ  کے لیئے  ایک  اجتھاد  کیا ,سلیمان علیہ السلام  کے فیصلہ کو  درست قرار دیا   جبکہ داؤد علیہ السلام  کے فیصلہ کو  غلط قرار دیا  مگر  اس کے باوجود  دونوں کے علم کو  سراہا   جیسا کہ فرمایا  : ((ہم نے اس کا صحیح  فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا  ہاں ہر ایک کو  ہم نے  حکم وعلم دے رکھا تھا ))۔(( الأ نبیأ ۔۷۹ ) ۔

  1. تمام اہل علم اور چاروں  مذاھب کے  امام  کتاب وسنت ہی سے استنباط کیا اس پر اپنی رائے  یا اعتراض  کو مقّد م نہیں کیااور  نہ انکا اختلاف  خواہش  نفس  یا  شخصی اغراض  و مقاصد  پر مبنی تھا  جو  حق  تک پہنچنے  میں ممد و معاون  ہوں چنانچہ حدیث  رسول ﷺ  کسی عالم  دین تک  پہنچی اور کسی دوسرے  عالم  دین تک  نہیں  پہنچی  یا کتاب  و سنت سے  استنباط میں دلیل  کے سمجھنے  میں اختلاف  واقع ہوا ۔
  1. ۵۔علماء  وفقہاء  میں سے چار بڑے  ائمہ مشہو ر  ہوئے  جن کا  علم  و دین  میں بڑا مقام  ہے او ر فقہ  ودین  میں  ان کا  بڑا  مرتبہ  ہے اور  ان کے شاگردوں  کی بڑی  تعداد  رہی   جنہوں نے  زمین  کے مختلف  گوشوں میں ان کے  علم  کو پھیلا یا اسی لئے  مسلمانوں  کے درمیان  چار مذاھب   بن گئے  جنھیں  ان سے  منسوب کیا گیا  ۔اور  وہ یہ ہیں :
  • امام ابو حنیفہ ,ان کا نام  نعمان بن ثابت  ہے  جو عراق میں  رہے اور ان کی وفات  سنہ ۱۵۰ھ میں ہوئ اور ان کی  طرف  حنفی  مذھب  منسوب کیا جاتا ہے ۔
  • امام  مالک بن انس  أصبحی  ,جو  مدینہ منورہ  کے امام ہیں ,ان کی  وفات   سنہ  ۱۷۹ ھ  میں ہوئ  اور ان کی طرف مذھب مالکی  منسوب  کیا جاتا ہے ۔
  • امام شافعی , ان کا  نام محمد  بن ادریس  وہ مکہ اور مدینہ  اور عراق  اور مصر  میں رہے  ان کی وفات  سنہ  ۲۰۴ ھ میں  ہوئ ان کی طرف  شافغی  مذھب منسوب کیا جاتا ہے ۔
  • اما م احمد بن حتبل  ,زندگی کا بڑا  حصّہ  عراق میں گذارا  , ان کی وفات  سنہ  ۲۴۱ ھ  میں ہو اور انھیں سے مذھب  حنبلی  منسوب ہے ۔                   

ائمہ اربعہ  اور ان کے  شاگردوں  کے درمیان  خوش گپیاں  اور مباحثات ہوتے  ہر انک حق  کی اتباع میں پوری  کوشش کرتا اور کسی مسئلہ  میں کسی کی موافقت  کرنے میں کوئ بھی  حرج محسوس  نہیں کرتا تاکہ حق بات  اور دلیل  کی اتباع  ہو جائے  چنانچہ  ان میں سے بعض  کو دوسرے  کے سامنے زانو تلمذ  اختیار  کرتے دیکھتے  ہیں ,امام احمد نے امام  شافعی  کی شاگردی اختیار  کی  اور ان سے پڑھا  اور شافعی نے امام مالک کی شاگردی  اختیار  کی اور ان سے علم  حاصل کیا  اور امام مالک اور ابوحنیفہ  کے شاگر دوں  کے درمیان علمی مباحثے  ہوئے۔ 

ائمہ اربعہ سے یہ بات ثابت ہے  : اگر حدیث  صحیح  ہو تو وہ میرا مذھب  ہے کیونکہ  ان کا پہلا  مقصد علم  کا اشاعت      او رلوگوں  سے جہالت  کو دور کرنا ,اللہ  انھیں اپنی کشادہ رحمت میں ڈھانک لے ۔

فقہی اختلاف کے مسئلہ میں  ایک مسلمان  پر کیا فرض بنتا ہے ؟  

مسلمان  کے لیئے ضروری ہے  ہے کہ حق کو اختیار  کرنے اور اس کی اتباع میں بھر پور کوشش کرے ۔

  • اگر وہ  ماھر  طلبہ میں سے ہے جنھیں  دلیل  کو سمجھنے  کی قدرت ہے تو اسے اپنے  اجتھاد  پر عمل کرنا  لازمی ہے جسے  اس نے فقہ کے اصول  و قواعد  کے مطابق  دلیل کو سمجھا ہے  او راس پر کسی شیخ  یا مسلکی  تعصب  اختیار  کر نا نا جائز  ہے اگر اسے دوسرے  کی رائے  درست نظر  آئے ۔
  • اور جو عوام الناس میں سے ہو  اور دلیل  کو سمجھنے میں قدرت نہ رکھتا ہو  تو اسے ایسے کی تقلید کرنے میں کوشش کرنا چاہیئے  جو دین وعلم میں  زیادہ قابل اعتماد ہو  , اس طرح فریضہ سے سبکدوش  سمجھاجائے گا  ,اللہ تعالیٰ  کے قول  کے مطابق   ((پس تم أھل کتاب سے پوچھ لو  اگر خود تمھیں   علم نہ ہو )) ۔(( الأ نبیأ ۔۷))۔ اسے اگر  کسی  معتمد  قول  کا علم ہو یا کسی مسئلہ  میں کسی معتبر  عالم  سے دریافت  کیا تو اسے اس کے بعد کسی اور سے دریافت  کرنا ضروری نہیں  یا کوئ  مخالف  بات کا علم ہو تو اسے اس کے  خیال میں  جو  زیادہ  درست  اور حق  ہو اس کی اتباع  کر نی چاہیئے  جیسا کہ  ایک بیمار کرتا ہے جب  ڈاکٹرس  کی رائے  مختلف  ہو تی  ہے ۔

اپنے  مسلمان بھائیوں  کی نہ عیب  جوئ کرے اور نہ برا بھلا  کہے اگر وہ  کسی  دوسرے  فقہی  مذھب  پاک  معتبر  عالم  کی تقلید   کرتے ہیں کنونکہ صحابہ ؓ اور سلف صالح  فقہی  مسائل میں  اختلاف  رکھتے   لیکن  آپس  میں ایک دوسرے  سے اور اخوت سے  پیش آتے  تھے  ۔ او رآپس میں  بغیر عیب لگائے  کے مسائل  میں بحث کرتے تھے ۔

دليل المسلم الميسر

مسلم سہولت گائیڈ سائٹ ایک معاصر گائیڈ کمپنی منصوبوں 15 سے زائد زبانوں کی پیداوار اور مخصوص الیکٹرانک ٹیمپلیٹس میں سے ایک بڑی تعداد میں مواد فراہم کیا گیا ہے جو اس کتاب (مسلم سہولت گائیڈ) کی الیکٹرانک ورژن ہے.

الدليل المعاصر