خصائل فطرت

×

Error message

Deprecated function: Function create_function() is deprecated in views_php_handler_field->pre_render() (line 202 of /var/www/drupal7-websites/sites/all/modules/contrib/views_php/plugins/views/views_php_handler_field.inc).

خصال فطرت کا مطلب کیا ہے؟

فطرت کی سنتیں وہ خصلتیں ہیں جن پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا، مسلمان کا کمال ان کے کرنے میں ہے، چنانچہ وہ اچھی شکل وصورت میں ظاھرہوتا ہے، اسلام نے مسلمان کے جمالی اورکمالی گوشہ کا اہتمام کیا تاکہ اس کے اندرظاہری وباطنی بھلائی اجاگرہو۔

آپ ﷺ نے فرمایا: ((پانچ صفات فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرنا،شرمگاہ کے بال صاف كرنا، مونچھ کترنا، ناخن تراشنا، بغل کے بال نکالنا)) (بخاری: 555، مسلم: 257)
ختنہ کرنا : شرمگا ہ کے اوپری حصّہ پر پائی جانیوالی جلد(قلفہ)کو دور کرنا۔ اوریہ پیدائش کے بعد ابتدائی دنوں میں کیا جاتا ہے۔
یہ ان مستحبات میں سے ہے جن کی تاکید آئی ہے اور یہ سنت مردوں کے لیے ہے اور اس میں انسانی صحت کے لیے کئى ایک فائدے ہیں۔
شرمگاہ کے بال صاف كرنا: زیر ناف بال کو حلق یا کسی بھی طریقہ سے اتارے۔
مونچھ کاٹنا: مونچھ کے بال کو کچھ باقی رکھنا مباح ہے مستحب نہیں، اگر مسلمان انھیں کچھ رکھتا ہے تو اسے دراز نہ کرے اور اسے کترتے رہے اور چھوٹا کرے۔
داڑھی بڑھانا: داڑھی بڑھانے کی اسلام نے ترغیب دی، یہ وہ بال ہیں جو ٹھوڑی اور جبڑوں پر آتے ہیں۔
اس کے بڑھانے کا مطلب اس کو باقی رکھنا ہے، نبی ﷺ کی پیروی میں اسے مونڈنا نہیں چاہئے۔
نا خن تراشنا: مسلمان کو چاہیے کہ ناخنوں کو تراشتا رہے تاکہ اس میں میل کچیل جمع نہ ہوجائے۔
بغل کے بال اکھیڑنا: مسلمان کو چاہیے کہ بغل کے بال اکھیڑے یا کسی بھی طریقہ سے اس کا ازالہ کرے تاکہ اس میں بدبو نہ آئے۔

آسان رہنمائے مسلم

آسان رہنمائے مسلم کی ویب سائٹ کتاب "آسان رہنمائے مسلم" کا الکٹرانک نسخہ ہے۔ یہ شرکۃ الدلیل المعاصر کا ایک پروجیکٹ ہے، جسے زائد از پندرہ زبانوں میں تیار کیا گیا ہے، اور اس کے مشمولات متعدد معیاری الکٹرانک شکلوں میں موجود ہیں۔