You are here

طہارت کی خاص حالتیں

×

Error message

Deprecated function: Function create_function() is deprecated in views_php_handler_field->pre_render() (line 202 of /var/www/drupal7-websites/sites/all/modules/contrib/views_php/plugins/views/views_php_handler_field.inc).

موزوں پر مسح کرنا:

 اسلام کی یہ فراخ دلی ہے کہ ایک مسلمان اپنے گیلے ہاتھوں سے اپنے موزے یا جوتے کے اوپری حصّہ پر مسح کرسکتا ہے جو پورے پیر کو شامل ہے، یہ وضوء میں پیر کو دھونے کا بدل ہے بشرط یہ کہ اس نے اس کو بحالت وضوء پہنا ہو۔ یہ مقیم کے لیے(24) گھنٹے سے زائد نہیں اور مسافر کے لیے (72) گھنٹے سے زائد نہیں۔
جنابت سے غسل میں ہر حالت میں پیروں کو دھونا ضروری ہے۔

خف اور جورب پر وضو کے وقت مسح مشروع ہے جب ان کو مسلم پاکی کی حالت میں پہنتا ہے۔ 

جبیرہ (پٹی) پر مسح کرنا:

ہڈّی ٹوٹنے یا زخم آنے پر وضوء کے کسی عضو پر پٹی باندھی جاتی ہے تاکہ اس سے جلدی شفا ہوجائے اور تکلیف ہلکی کرنے میں مدد ملے۔ اس میں ذیل کے امور کی ضرورت پر زور دیا گیا:

  • ضرورت کے وقت جبیرہ (پٹی) پر گیلے ہاتھوں سے مسح کرنا کافی ہے چاہے وہ وضوء ہو یا جنابت سے غسل ہو۔
  • اس عضو کے ظاھری حصّہ کو دھوئے اور جبیرہ (پٹی) پرگیلے ہاتھ سے مسح کرے۔
  • جبیره پر مسح کرتا رہے جب تک ضرورت باقی رہے خواہ اس کی مدت کتنی ہی لمبی ہوجائے، جبیرہ کا ازالہ ضروری ہے (جب اس کی ضرورت ختم ہوجائے) اور اس عضو کو دھوئے۔

جو شخص پانی کا استعمال کرنے سے عاجز ہو:

اگر کوئی مسلمان وضوء یاغسل میں پانی کا استعمال نہ کرسکے تو بیماری کی وجہ سے یا پانی نہ ہونے کے سبب یا پانی اتنا ہے کہ صرف پینے کے لیے کافی ہے تو ایسی صورت میں مٹی سے تیمم مشروع ہے تا آنکہ پانی مل جائے اور اس کے استعمال پرقدرت حاصل ہو جائے۔

تیمم کی صفت: 

یہ کہ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو مٹی پر ایک مرتبہ مارے اور جو ہاتھ پرمٹی باقی رہ گئی اس سے اپنے چہرے پرمسح کرے، 

پھراپنی سیدھی ہتھیلی سے بائیں ہتھیلی پراور بائیں ہتھیلی سے سیدھی ہتھیلی پرمسح کرے۔ 

سنت میں یہ بھی آیا ہے کہ دوسری مرتبہ مٹی پرہاتھ مارے اور اپنے دونوں ہاتھوں کا کہنیوں تک مسح کرے۔

آسان رہنمائے مسلم

آسان رہنمائے مسلم کی ویب سائٹ کتاب "آسان رہنمائے مسلم" کا الکٹرانک نسخہ ہے۔ یہ شرکۃ الدلیل المعاصر کا ایک پروجیکٹ ہے، جسے زائد از پندرہ زبانوں میں تیار کیا گیا ہے، اور اس کے مشمولات متعدد معیاری الکٹرانک شکلوں میں موجود ہیں۔