You are here

ایمان کے ارکان چھ ہیں

سجدہ اللہ تعالی کے ليے خشوع کا ایک بڑا مظہر ہے۔

اللہ عزوجل پر ایمان لانے کا مفہوم:

وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے وجود کی تصدیق کرنا اور اس کی ربوبیت، الوہیت، اس کے نام اور صفات کا اقرار کرنا 
عنقریب ہم ان چاروں امور کے بارے میں تفصیلی گفتگوآئندہ سطور میں کریں گے :

  1.  اللہ تعالیٰ کے وجود پر ایمان لانا :

اللہ کی فطرت:

انسان فطری طور پر اللہ تعالیٰ کے وجود کا اقرار کرتا ہے، اس بات کے لئے استدلال کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ادیان ومذاہب میں لوگوں کی اکثریت اللہ کے وجود کا اعتراف کرتی ہے۔

ہم اپنے دلوں کی گہرایئوں سے یہ شعور رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہے،مشکلات اور پریشانیوں میں اس کی طرف رجوع کرتے ہیں، یہ ایمانی فطرت اور جو تدین اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی فطرت میں رکھا ہے اس کا تقاضہ ہے، اگرچہ کہ بعض لوگوں نے اس کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔

ہم سنتے اور مشاہدہ کرتے ہیں کہ پکار نے والے کی بات سنی جاتی ہے، مانگنے والے کو نوازا جاتا ہے پریشان حال لوگوں کی بات سنی جاتی ہے، یہ دلیل ہے وجود باری تعالیٰ کی۔

وجود باری تعالیٰ پربے شمار واضح دلیلیں ہیں، ان میں سے:

  • یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ کسی چیز کے وجود کے لئے موجد کا ہونا ضروری ہے، بہت ساری مخلوقات جن کا ہم ہر وقت مشاہدہ کرتے ہیں ان کا خالق وموجد ہونا ضروری ہے کیوں کہ کوئى مخلوق بغیر خالق کے وجود میں نہیں آسکتی اور نہ کوئى چیز اپنے آپ وجود میں آتی ہے کیوں کہ کوئى چیز اپنے آپ کو پیدا نہیں کر سکتی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔((کیا یہ بغیر کسی((پیدا کرنے والے)) کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟)). (الطور : 35)۔آیت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ بغیر خالق کے نہیں پید ا ہوئے اور نہ ا نہوں نے اپنے آپ کو پیدا کیا تو یہ بات متعین ہو جاتی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کا خالق ہے۔
  • اس کائنات کا نظم جس میں یہ زمین اورآسمان، ستارے اور درخت از خود قطعی طور پر ثابت کرتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک ہی خالق ہےاور وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہے:((یہ ہے صنعت اللہ کی جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا ہے))۔ (النمل : 88)
  • یہ سیاّ رے اور ستا رے مثال کے طور پر ایک مستقل نظام کے تحت چل رہے ہیں جس میں کسی قسم کا خلل نہیں ہے، ہر سیا رہ اپنے مدار میں چل رہا ہے وہ مقر رہ حد سے آگے نہیں بڑھتا۔
  • اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :((نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن پر آگے بڑھ جانے والی ہے اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں))۔ (یٰس:۔ 40)
  1.  اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر ایمان لانا :

اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر ایمان لانے کا مفہوم:

اقرار وتصدیق کرنا اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا رب ہے اور اس کا مالک، خالق اور رازق ہے وہی جلانے والا اور مارنے والا ہے، نفع وضرر کا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے، خیر اسی کے ہاتھ میں ہے، ہر چیز پر وہ قدرت رکھتا ہے۔ اس میں اس کا کوئى شریک نہیں۔تب تو اس بات کا اعتقاد رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ اپنے تمام افعال میں یکتا ہے۔

  • یقینا اللہ وحدہ ہی کائنات کی تمام چیزوں کا خالق ہے، اس کے سوا کوئى خالق نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:((اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے))۔ ( الزمر :62)
    البتہ انسان کی کاری گری وہ تو ایک صفت سے دوسری صفت میں تبدیل کرنا یا جمع و ترکیب کے عمل کو انجام دینا وغیرہ، یہ در حقیقت تخلیق کا عمل نہیں اور نہ عدم سے وجود میں لانا ہے اور نہ موت کے بعد جلا نا ہے۔
  • اور یہ کہ وہ تمام مخلوقات کا روزی دینے والا ہے اور نہ اس کے سوا کوئى رازق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:((زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ پر ہیں))۔ (هود: 6). 
  • وہی ہر چیز کا مالک ہے، اس کے سوا کوئى حقیقت میں مالک نہیں ہے، چنانچہ اللہ سبحانہ نے فرمایا:۔((اللہ ہی کی ہے سلطنت آسمانوں کی اور زمین کی اور ان چیزوں کی جو ان میں موجود ہیں))۔ (المائدة: 120).  
  • وہی ہر چیز کی تدبیر کرتا ہے، اللہ کے سوا کوئى تد بیر نہیں کرتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :((وہ آسمان سے لے کر زمین تک (ہر) کام کی تدبیر کرتا ہے))۔(السجد ہ: 5)۔ 
    البتہ انسان کا اپنی زندگی کے امور کی تدبیر کرنا اور اسے ترتیب دینا ان چیزوں کے ساتھ مقید ہے جو اس کی قدرت واستطاعت ا ور اس کے ما تحت ہیں،کبھی یہ تدبیر کام آتی ہے اور کبھی ناکام ہو جاتی ہے لیکن خالق سبحانہ و تعالیٰ کی تدبیر تمام چیزوں کو شامل ہوتی ہے کوئى چیز اس سے باہر نہیں ہوتی اور وہ ہو کر رہتی ہے کوئی چیز اس کے نافذ ہونے میں مانع نہیں ہوتی ہے، اور نہ کوئی اس سے تعارض کرتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :۔(( یاد رکھو اللہ ہی کے لیے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے))۔ (الأعراف: 54). 

رسول اللہ کے زمانے میں مشرکین عرب اللہ کی ربو بیت کے معترف تھے: 

رسول اللہ کے زمانے کے کفّار اس بات کا اعتراف کرتے تھے کہ اللہ ہی خالق و ما لک اور وہی اس کائنات کا منتظم ہے لیکن صرف اس اقرار نے انھیں اسلام میں نہیں داخل کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:((اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمان وزمین کا خالق کون ہے؟. تو یہ ضرور جواب دیں گے کہ اللہ))۔ (لقمان: 25). 

کیوں کہ جو شخص یہ اقرا ر کرے کہ اللہ پوری کائنات کا پالنھار ہے یعنی وہی خالق و مالک اور ان کا مربّی ہے، تو اسے لازم ہے کہ وہ اللہ کے لیے عبادت کو خالص کرے اور اسی کی طرف اسے پھیرے جس کا کوئى شریک نہیں۔

پھرکیسے عقل وفہم میں یہ بات آئے گی کہ انسان اس بات کا اقرار کرے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ہے، کائنات کی تدبیر وہی کرتا ہے، وہی جلانے والا وہی مارنے والا ہے، پھر عبادت کی کچھ قسمیں دوسروں کے لیے خاص کر دے؟ یہ بہت ہی گھناؤنا ظلم ہے اور بہت بڑا گناہ ہے، اسی لیے لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کر تے ہوئے کہا:((میرے پیارے بچے ! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا، بیشک شرک بڑا بھاری ظلم ہے))۔ (لقمان: 13). 

جب رسول اللہ ﷺ سے دریا فت کیا گیا:کون سا گناہ اللہ کے نزدیک بڑا ہے؟ فرمایا:۔((یہ کہ اللہ کے مدّمقابل کسی کو ٹھہراؤ درآں حالیکہ اس نے تمہیں پیدا کیا)) (بخاری: 4207، مسلم: 86)۔ 

ربوبیت پر ایمان لانے سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے:

یہ معلوم ہونا چاہیے کہ مخلوقات میں سے کوئى بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے دائرے سے نہیں نکل سکتا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کا بادشاہ ہے، اپنی حکمت سے جس طرح وہ چاہتا ہے تصرّف کرتا ہے، وہی تمام کا خالق ہے، اللہ کے سوا تمام چیزیں بنائى گئى ہیں جو اپنے خالق کی محتاج ہیں، تمام امور اللہ سبحانہ کے ہاتھوں میں ہیں، وہی خالق ہے، وہی رازق ہے، وہی اکیلا کائنات کو چلانے والا ہے، کائنات کی ذرّہ برابر چیز اس کی اجازت کے بغیر حرکت نہیں کرسکتی اور نہ اس کے حکم کے بغیر کوئى دوسری چیز سکونت اختیار کرتی ہے اسی بات نے اس کے دل کو اللہ وحدہ سے تعلق لگا دیا اسی سے سؤال کرنا، اسی سے اپنی حاجت مانگنا، اسی پر زندگی کے تمام شعبوں میں اعتماد کرنا، آگے بڑھنا اور زندگی کے بدلتے حالات میں پورے اطمینان اور عزم واصرار کے ساتھ نبرد آزما ہونا کیوں کہ اس نے زندگی میں اپنی مراد کے حصول میں اسباب کو بروئے کار لاکر اللہ سے اپنی مراد کو پوری کرنے کی دعاء کی تو اس نے اپنا کا م پورا کردیا، یہی نفس کو دوسروں کے پاس کی نعمتوں کی تمنا کرنے سے روک لگاتا ہے، در حقیقت سارا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے پیدا کر تا ہے،جسے چاہے منتخب کرتا ہے۔

آسان رہنمائے مسلم

آسان رہنمائے مسلم کی ویب سائٹ کتاب "آسان رہنمائے مسلم" کا الکٹرانک نسخہ ہے۔ یہ شرکۃ الدلیل المعاصر کا ایک پروجیکٹ ہے، جسے زائد از پندرہ زبانوں میں تیار کیا گیا ہے، اور اس کے مشمولات متعدد معیاری الکٹرانک شکلوں میں موجود ہیں۔