You are here

اسلام میں خاندان کا مقام

اسلام کا خاندانی نظام کے ساتھ اہتمام ذیل کی باتوں سے ظاھر ہوتا ہے۔

  1. اسلام نے شادی اور خاندان کی بناء کی بڑی تأکید فرمائى اور اسے جلیل القدر اعمال اور رسولوں کی سنت میں شمار کیا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ((لیکن میں تو روزہ رکھتا بھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا ہوں، رات کو نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور میں شادی بھی کرتا ہوں، جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں ہے))۔ (البخاري: 4776، مسلم: 1401)۔
  • قرآن نے بڑے احسانات اور نشانیوں میں اللہ کی اس بات کو بھی بیان کیا ہے کہ اللہ نے میاں اور بیوی کے درمیان سکون و محبت اور ہمدردی کے جذبات ڈال دیئے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔ ((اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ، اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کردی ))۔(الروم: 21)۔
  • اور شادی کو آسان بنانے اور شادی کرنے والے کی مدد کرنے کا حکم فرمایا اس کے لیے جو اپنے نفس کی پاک دامنی کا قصد رکھتا ہے، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا :۔ ((تین ایسے اشخاص ہیں جن کی مدد کرنا اللہ پر حق بنتا ہے)) اور آپ ﷺ نے ان میں ذکر کیا ((اور وہ شادی کرنے والا جو عفت و پاکدامنی چاہتا ہے))۔ (ترمذی: 1655)۔
  • نو جوانوں کو اپنی قوت و جوانی میں شادی کا حکم فرمایا، بسبب اس کے کہ اس سے سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے اور کیونکہ اس میں اس کی شہوت اور خواہش کا شرعی حل ہے۔

اسلام نے شادی اور خاندان کو بنانے کو رسولوں کی سنت قرار دیا ہے اور اس کو آسان کرنے نيز اس پر نوجوانوں کی مدد کرنے كا حکم دیا ہے 

  1. اسلام نے خاندان کے ہر فرد کو کامل احترام سے نوازا چاہے وہ مرد ہو یا عورت:

اسلام نے ماں اور باپ پر اپنے بچوں کی تربیت کی بھاری ذمہ داری عائد کی، چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ کہتے ہوئے سنا:۔ ((تم میں ہرشخص ذمہ دار ہے، امام اپنی رعایا کی ذمہ داری کے تعلق سے پوچھا جائے گا، اور مرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور اپنے ماتحت لوگوں کی ذمہ داری کے بابت پوچھا جائے گا، اور عورت اپنے خاوند کے گھر کى ذمہ دار ہے اور اس سے اپنے ماتحت لوگوں کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا، اور خادم اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے اور اپنى ذمہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا))۔ (بخاری: 853، مسلم: 1829)۔

  1. اسلام نے مسلمان پر صلۂ رحمی کو فرض قرار دیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اپنے ماں باپ اور باپ کی طرف سے رشتہ داروں کے ساتھ احسان کا عمل کرتے رہے۔

جیسے اس کے سگے بھائى اور بہنیں، چچا، پھوپھیاں اور ان کے بچے، ماموں اور خالائیں اور ان کے بچے۔ نیز اسے تقرب اور طاعت کا بڑا ذریعہ شمار کیا، اور ان کے ساتھ قطع تعلقی اور برے سلوک کو کبیرہ گناہ بتایا، اور اس پر شدید وعید فرمائى: آپ ﷺ نے فرمایا:۔ ((رشتہ داری کو کاٹنے والا جنّت میں نہیں داخل ہوگا))۔ (البخاري: 5638، مسلم: 2556).

  1. اسلام نے ماں باپ کے ليے احترام و عزت کے اصول کی مضبوطی کا اہتمام کیا اور ان کے مرنے تک ان کا خیال رکھنے کی تأکیدکی:

لڑکا یا لڑکی کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں اپنے اپنے والدین کی اطاعت اور ان کے ساتھ حسن سلوک فرض قرار دیا اور اسے اللہ سبحانہ کی عبادت کے ساتھ جوڑ دیا، اور ان کے ساتھ لفظ و فعل کے ذریعہ کسی بھی زیادتی کو منع فرمایا، جس میں ان سے کسی لفظ یا آواز کے ذریعہ ناراضگی کا اظہار ہو، اللہ سبحانہ نے فرمایا :۔ (( اور تیرا رب صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب واحترام کے ساتھ بات چیت کرنا))۔ (الإسراء: 23).

  1.  بچوں اور بچیوں کے حقوق کی حفاظت اور خرچ کرنے اور ظاہری امور میں ان کے ساتھ عدل وانصاف کا حکم دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :

 ((اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل وانصا ف سے کام لو))۔ (البخاري: 260)

آسان رہنمائے مسلم

آسان رہنمائے مسلم کی ویب سائٹ کتاب "آسان رہنمائے مسلم" کا الکٹرانک نسخہ ہے۔ یہ شرکۃ الدلیل المعاصر کا ایک پروجیکٹ ہے، جسے زائد از پندرہ زبانوں میں تیار کیا گیا ہے، اور اس کے مشمولات متعدد معیاری الکٹرانک شکلوں میں موجود ہیں۔