You are here

نبی ﷺ کی زندگی اور آپ ﷺ کے اخلاق کے نمونے

نبی ﷺ کے فضائل اور صفات مسجد نبوی کے قبلہ پر نقش ہیں۔

رسول اللہ ﷺ بلند اخلاق کی مثال تھے، اسی ليے قرآن نے آپ ﷺ کے اخلاق کو عظیم بتایا اور آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ نے آپ ﷺ کے اخلاق کی تعبیر اس سے زیادہ دقیق ترین اور کوئی نہیں پائی، چنانچہ انہوں نے کہا:((قرآن ہی آپ ﷺ کے اخلاق تھے)) یعنی آپ ﷺ قرآنی تعلیمات اور اخلاق کا عملی نمونہ تھے۔

انکساری

  • رسول اللہ ﷺ اس بات کو پسند نہیں فرماتے کہ کوئی شخص آپ ﷺ کی تعظیم کے لئے اٹھے، بلکہ اپنے اصحاب کرام کو اس سے منع فرماتے حتیٰ کہ صحابہ فرط محبت میں آپ ﷺ کو آتے دیکھ کر نہیں اٹھتے یہ اس لئے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ ﷺ اس بات کو نا پسند فرماتے ہیں۔ (أحمد: 12345، البزّار: 6637).
  • ایک مرتبہ عدی بن حاتم اپنے اسلام لانے سے پہلے آپﷺ کے پاس آئے، اور ان کا عرب کے بڑے لوگوں میں شمار ہو تا تھا، وہ آپ ﷺ کی دعوت کی حقیقت جاننا چاہتے تھے، عدی کہتے ہیں:((میں آپ ﷺ کے پاس آیا تو کیا دیکھا کہ آپ ﷺ کے پاس ایک عورت اور دو بچے یا ایک بچہ تھا۔ (پھرنبی ﷺ سے ان کے قریب ہو نےکا تذکرہ کیا اور کہا) تو میں سمجھ گیا کہ آپ ﷺ کسریٰ یا قیصر جیسے بادشاہ نہیں ہیں)) (أحمد: 19381) تواضع تمام انبیاء کا شیوہ تھا۔
  • آپ ﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ انھیں میں کے ایک فرد کی طرح بیٹھتے تھے اور مجلس میں ایسا نہیں بیٹھتے کہ آپﷺ کو کوئى امتیاز حاصل ہو، حتّیٰ کہ کوئى اجنبی جو آپ ﷺ کو نہیں جانتا اور وہ آپ ﷺ کی مجلس میں داخل ہوتا تو آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب کے درمیان کوئی فرق نہیں کرپاتا، چنانچہ پوچھتا :تم میں کون محمد ہیں؟.
  •  حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا :((مدینہ کی رہنے والی باندیوں میں سے کوئی باندی رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ کو پکڑتی اور جہاں چاہتی آپ ﷺ کو لے چلتی))۔ (البخاري 5724)ہاتھ کو پکڑنے کا مطلب :چھوٹے اور بڑے کے ساتھ نرمی اور ان کی بات سننا ہے، مرد کے بجائے عورت کا تذ کرہ کرنا اور آزاد کے بجائے باندی کا تذکره كرنا اس میں آپ ﷺ کے بہت زیادہ تواضع سے پیش آنے کی دلیل ہے، اور وہ یہ کہ وہ اپنی ضرورت کے لئے آپ ﷺ کو جہاں چاہتی لے جاتی ہے۔
  • آپ ﷺ نے فرمایا: ((جس کسی کے دل میں ذرّہ برابر تکبر ہو وہ جنّت میں نہیں داخل ہوگا))۔ (مسلم: 91)۔

مسلمان ہر نماز میں زمین پر سجدہ کرتا ہے تاکہ اسے یاد رہے کہ وہ ایک مٹی کی مخلوق ہے اور اس وجہ سے اس کے اندر کا کبر ختم ہو جائے۔ 

رحم دلی 

آپ ﷺ نے فرمایا: رحم کرنے والوں پر رحمٰن رحم کرتا ہے، زمین والوں پر تم رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا)۔ (الترمذي: 1924، أبو داود: 4941)۔
نبی ﷺ کی رحم دلی کئی گوشوں کا احاطہ کرتی ہے، ان میں سے کچھ یہ ہیں:

بچوں کے ساتھ آپ ﷺکی رحم دلی

  • ایک اعربی نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے کہا: تم لوگ اپنے بچوں کو پیار کرتے ہو؟ ہم تو ان سے پیار نہیں کرتے، نبی ﷺ نے یہ کہتے ہوئے رد کیا:((کیا میں اس بات پر قابو رکھتا ہوں جب کہ تمہارے دل سے اللہ نے رحم دلی کو چھین لیا)) (البخاري: 5652، مسلم: 2317)۔ایک دوسرے شخص نے آپ ﷺ کو حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو پیار کرتے دیکھا تو اس نے کہا : میرے (10) دس بچے ّ ہیں میں ان میں سے ایک کو بھی پیار نہیں کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا:((جو رحم نہیں کرتا اس پِر رحم نہیں کیا جاتا))۔(مسلم 2318)۔
  • آپ ﷺ نے ایک مرتبہ نماز پڑھی اور آپ ﷺ اپنی نواسی امامہ بنت زینب کو اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ سجدہ کرتے اسے نیچے چھوڑ دیتے اور جب قیام کرتے اسے اٹھا لیتے۔(البخاري: 494، مسلم: 543)۔
  • جب آپ ﷺ نماز میں داخل ہوتے اور بچے کی آواز سنتے تو نماز کو جلدی ادا کرتے اور اسے مختصر کرتے۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ ((میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور لمبی نماز پڑھانا چاہتا ہوں، پھر میں بچے کی آواز سنتا ہوں تو نماز کو مختصر کردیتا ہوں اس ڈر سے کہ اس کی ماں پر مشقت نہ ہو))۔ (البخاري: 675، مسلم: 470)۔

اللہ کے رسول ﷺ جب بچے کی رونے کی آواز سنتے تو نماز کو جلدی ختم کرتے۔

عورتوں کے ساتھ رحم دلی

آپ ﷺ نے لڑکیوں کی نگہداشت اور ان کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب دی، آپ ﷺ فرماتے تھے:۔((جو کوئی شخص ان بچیوں کی نگہداشت کرے اور ان کی اچھی تربیت کرے تو وہ اس کے ليے دوزخ سے حجاب بنیں گی))۔ (البخاري: 5649، مسلم: 2629)۔
بلکہ بیوی کے معاملہ میں بہت زیادہ وصیت فرمائی اور اس بات پر زور دیا کہ اس کے معاملات اور اس کے حالات کا خیال رکھا جائے اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ اس ضمن میں ایک دوسرے کو نصیحت کریں، چنانچہ فرمایا:۔((عورتوں کے بارے میں اچھی وصیت قبول کرو))۔ (البخاري: 4890)۔
آپ ﷺ نے اپنے گھر والوں کے ساتھ نرم مزاجی کی شاندار مثال قائم کی یہاں تک کہ آپ ﷺ اپنی اونٹنی کے پاس بیٹھتے اور اپنا گھٹنہ رکھتے جس پر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پیر رکھ کر اونٹنی پر سوار ہوتے۔ (البخاري: 2120)، جب آپﷺ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے پاس آتیں آپ ﷺ ان کا ہاتھ پکڑتے اور انھیں چوم لیتے اور انھیں اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ (أبو داود: 5217)۔

بیوہ اور مسکین کی خبر گیری کرنے والا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والےاور دن میں روزہ رکھنے اور رات میں قیام کرنے والے کی طرح ہے۔

کمزوروں کے ساتھ ہمدردی

  • اسی لئے نبی ﷺ نے لوگوں کو یتیم کی کفالت کرنے کی ترغیب دی، آپ ﷺ فرماتے:۔((میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں دونوں اس طرح ہوں گے)) آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا، اور دونوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھا۔ (البخاري: 4998).
  • بیوہ اور مسکین کے لئے کوشش کرنے والے کو اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے اور دن میں روزہ رکھنے والے اور رات میں قیام کرنے والے کے برابر قرار دیا۔ (البخاري: 5661، مسلم: 2982)
  • کمزوروں پر توجہ کرنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کو روزی اور دشمنوں پر فتح کا سبب قرار دیا چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا:۔((تم میرے پاس کمزوروں کو لے آؤ کیونکہ کمزوروں کے واسطہ سے تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہیں روزی فراہم کی جائے گی))۔ (أبو داود: 2594).

چوپایوں کے ساتھ ہمدردی

  • آپ ﷺ لوگوں کے ساتھ نرمی کرنے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنے اور انھیں تکلیف نہ دینے کی ترغیب دیتے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔((بے شک اللہ ہر چیز پر احسان کو فرض قرار دیا، چنانچہ جب تم قتل کرو تو اچھی طریقہ سے ذبح کرو، تم میں سے کوئی بھی ذبح کرنا چاہئے تو چاہئے کہ اپنی چھری کو تیز کرلے تاکہ اپنے جانور کو راحت پہنچا سکے))۔ (مسلم: 1955)۔
  • ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ﷺ نے دیکھا کہ ہم نے چیونٹیوں کی بستی کو آگ لگادی تو آپ ﷺ نے فرمایا:۔((اسے کس نے جلایا؟ ہم نے کہا، ہم نے ایسا کیا، فرمایا:((کوئی بھی آگ سے سزا نہ دے، سوائےآگ کے مالک کے۔ (أبوداود: 2675)۔

آسان رہنمائے مسلم

آسان رہنمائے مسلم کی ویب سائٹ کتاب "آسان رہنمائے مسلم" کا الکٹرانک نسخہ ہے۔ یہ شرکۃ الدلیل المعاصر کا ایک پروجیکٹ ہے، جسے زائد از پندرہ زبانوں میں تیار کیا گیا ہے، اور اس کے مشمولات متعدد معیاری الکٹرانک شکلوں میں موجود ہیں۔