نماز با جماعت

 اللہ نے مردوں کو پانچ نمازیں باجماعت پڑھنے کا حکم دیا ہے جس کی فضیلت میں اجر عظیم کا تذکرہ آیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ((جماعت کی نماز منفرد کی نماز سے (27) درجہ بہتر ہے))۔ (البخاري: 619، مسلم: 650).

کم سے کم جماعت امام اور مقتدی پر مشتمل ہوتی ہے، جتنی بڑی جماعت ہوگی اتنی ہی زیادہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہے۔

صحابہ کرام جماعت کے ساتھ صلاۃ کی ادائیگی کے اس قدر حریص تھے کہ جماعت سے پیچھے رہنے کو وہ نفاق کی ایک صفت شمار کرتے تھے۔

اقتداء کے معنی

وہ یہ ہے کہ مقتدی اپنی نماز کو امام کے ساتھ جوڑ دے اور امام کی رکوع، سجدے میں اتباع کرے، امام کی قراءت سنے اور مقتدی امام کی کسی چیز میں نہ مسابقت کرے اور نہ مخالفت، بلکہ امام کے کرنے کے فورا بعد وہ عمل انجام دے۔
آپ ﷺ نے فرمایا : ((امام اس لئے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، جب وہ اللہ اکبر کہے تم بھی اللہ اکبر کہو، اس کے تکبیر کہنے سے پہلے تکبیر مت بولو، جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اس کے رکوع میں جانےسے پہلے تم رکوع مت کرو اور جب وہ: سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ‎: ربنا ولک الحمد کہو، اور جب وہ سجدے میں جائے تو تم سجدہ کرو، اس کے سجدہ میں جانے تک تم سجدہ نہ کرو))۔ (البخاري: 701، مسلم: 414، أبو داود: 603).

امامت کے لئے کس کو آگے بڑھایا جائے؟

امامت کے لئے وہی آگے بڑھے جو قرآن کا زیادہ حافظ ہو اور اچھا پڑھنے والا ہو، پھر اس کے بعد والا، پھر اس کے بعد والا، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ((لوگوں کی امامت وہ کرے جو ان میں اللہ کی کتاب زیادہ پڑھنے والا ہو،اگر قراءت میں سب برابر ہوں تو سنت میں زیادہ علم رکھنے والا امام ہو۔۔۔))۔(مسلم: 673).

امام اور مقتدی کہاں کھڑے ہوں؟ 

امام کو آگے کھڑا ہونا چاہئے اور اس کے پیچھے مقتدی صف بنائیں، اور پھر اس کے بعد والی صفیں ہوں، اور اگر مقتدی اکیلا ہو تو امام کے سیدھی جانب کھڑا ہو۔

امام کے ساتھ جو نماز چھوٹ گئی اسے کیسے مکمل کرے؟

امام کے ساتھ کچھ نماز چھوٹ جانے پر بھی وہ امام کے ساتھ رہے، جب امام سلام پھیرے تو مقتدی اپنی چھوٹی ہوئی نماز کو مکمل کرے۔

رکعت کیسے ملے گی؟

جس كسي شخص كو امام كى ساتھ ركوع ملا ہو اس كى ايك ركعت ہوئی، جس كو ركوع نہ ملے وه امام كے ساتھ نماز میں داخل ہوگا اور وہ افعال واقوال جو اس نے اس رکعت میں کئے ہیں ان کا شمار نہ ہوگا۔

امام کے ساتھ چھوٹی ہوئی رکعتوں کو پورا کرنے کی مثالیں۔

  • جو شخص فجر کی نماز میں دوسری رکعت میں امام کے ساتھ ملے تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد ایک رکعت کو مکمل کرنے کے لئے کھڑا ہو جائے، امام کے سلام پھیرنے تک نہ اٹھے کیونکہ فجر کی نماز دو رکعت ہیں اور اسے صرف ایک رکعت ملی۔
  • جو شخص مغرب کی نماز کے آخری قعدہ میں امام کے ساتھ ملے اسے امام کے سلام پھیرنے کے بعد تین رکعات مکمل کرنی ہوں گی، کیونکہ وہ امام کے ساتھ آخری قعدہ میں ملا اور رکعت کا اعتبارامام کے ساتھ رکوع ملنے پر ہے۔
  • جو شخص ظہر کی نماز کی تیسری رکعت کے رکوع میں ملے تو گویا اسے امام کے ساتھ دو رکعتیں ملیں۔ (یہ گویا مقتدی کے ظہر کی ابتدائی دو رکعتیں ہوئیں) جب امام سلام پھیرے تو مقتدی کھڑا ہو اور باقی رکعتیں مقتدی کے لئے تیسری اور چوتھی متصور ہو ں گی کیونکہ ظہر کی چار رکعتیں ہیں۔

آسان رہنمائے مسلم

آسان رہنمائے مسلم کی ویب سائٹ کتاب "آسان رہنمائے مسلم" کا الکٹرانک نسخہ ہے۔ یہ شرکۃ الدلیل المعاصر کا ایک پروجیکٹ ہے، جسے زائد از پندرہ زبانوں میں تیار کیا گیا ہے، اور اس کے مشمولات متعدد معیاری الکٹرانک شکلوں میں موجود ہیں۔