مسافر کی نماز

  • مسافر کے لئے مسنون ہے کہ وہ حالت سفر میں یا جہاں کچھ وقت کے لئے مقیم ہو، چار رکعت والی نماز کو دو رکعات پڑھے، چنانچہ ظہر، عصر اورعشاء کی نماز بجائے چار کے دو رکعتیں پڑھے، البتہ مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھ رہاہو تو وہ امام کی طرح (4) رکعات پڑھے، نبی ﷺ فتح مکّہ کے وقت (15) دن ٹھہرے رہے اور نماز کو قصر کرتے رہے۔
  • مسنون ہے کہ بجز فجر کی سنتوں کے باقی سنتیں ترک کردے۔
  • ظہر اور عصرکو جمع کرکے پڑھے اور اسی طرح مغرب اورعشاء کو کسی ایک وقت میں جمع کرکے پڑھے، اور حالت سفر میں خاص طور پر ایسا کرنا مشروع ہے تاکہ سفر کی مشقت میں تخفیف ہو اورتنگی نہ ہو۔

اللہ نے ہمیں ہر قسم کے حالات میں صلاۃ کی حفاظت کا پابند بنایا ہے۔

بیمار کی نماز

نماز مسلمان پر ہر حالت میں فرض ہے بشرط یہ کہ وہ ہوش وحواس میں ہو، البتہ اسلام نے لوگوں کے حالات اورضرورتوں کے باہمی اختلاف کا خیال رکھا، انھیں میں سے بیمار بھی ہے۔

اس کی وضاحت کے ليے ذیل میں بتایا گیا ہے:

  • جو بیمار قیام نہیں کرسکتا وہ مشقت محسوس کرتا ہے یا ایسا کرنا اس کے علاج میں تاخیر کا سبب بنتا ہے تو قیام ایسے مریض کے حق میں ساقط ہوجائے گا اور وہ بیٹھ کر پڑھے گا، اور اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے تو لیٹ کر پڑھے گا، آپ ﷺ نے فرمایا :۔ ((کھڑے ہو کر نماز پڑھ، اگر اس کی طاقت نہیں ہے تو بیٹھ کر، اگر اس کی بھی طاقت نہیں ہے تو پہلو پر لیٹ کر))۔ (البخاري: 1066)۔
  • جو مریض رکوع وسجود نہیں کر سکتا تو وہ بقدر استطاعت جھکے گا۔
  • جس کسی شخص کے ليے زمین پر بیٹھنا مشکل ہے وہ کرسی وغیرہ پر بیٹھے گا۔
  • جس آدمی پر اپنی بیماری کی وجہ سے ہر نماز کے لئے پاکی حاصل کرنا مشقت والی بات ہو تو اسے ظہر اور عصر، اسی طرح مغرب وعشاء کو جمع کرکے نماز پڑھنا جائز ہے۔
  • جو شخص بیماری کے سبب پانی کے استعمال میں مشقت محسوس کرتا ہو تو اسے نماز کے لئے تیمم کرنا جائز ہے۔

آسان رہنمائے مسلم

آسان رہنمائے مسلم کی ویب سائٹ کتاب "آسان رہنمائے مسلم" کا الکٹرانک نسخہ ہے۔ یہ شرکۃ الدلیل المعاصر کا ایک پروجیکٹ ہے، جسے زائد از پندرہ زبانوں میں تیار کیا گیا ہے، اور اس کے مشمولات متعدد معیاری الکٹرانک شکلوں میں موجود ہیں۔