جمعہ کی نماز

اللہ نے جمعہ کے دن بوقت نماز ظہر ایسی نماز کو فرض کیا ہے جو اسلام کے شعائر میں عظیم شعیره ہے جس کا شمار اسلام کے اہم فرائض میں ہوتا ہے، ہفتہ میں ایک مرتبہ مسلمان جمع ہوتے ہیں اور امام کے خطبہ کو سنتے ہیں، جس میں انھیں نصیحتیں اور ہدایتیں پیش کی جاتی ہیں، پھر اس کے بعد وہ نماز جمعہ ادا کرتے ہیں۔

صلاۃ جمعہ کا اجر جلدی پہنچنے کے حساب سے ہے۔

جمعہ کے دن کی فضیلت

ہفتہ کے دنوں میں جمعہ کا دن بڑی عظمت اور شرف والا دن ہے، اللہ تعالیٰ نے تمام دنوں میں سے اسے چن لیا ہے اور اسے تمام دنوں پر فضیلت دی ہے اور اسے کچھ خوبیوں سے نوازا ہے۔

  • ان میں سے چند یہ ہیں: ایک تو یہ کہ اللہ نے تمام امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کو اس دن کے ساتھ خاص کیا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ ((اللہ نے ہم سے پہلے کے لوگوں سے جمعہ کو اوجھل رکھا، چنانچہ ہفتہ کا دن یہود کے لئے مخصوص رکھا اور اتوار کا دن نصاریٰ کے ليے مخصوص تھا، اللہ ہمیں لایا اور ہمیں جمعہ کے دن کی رہنمائی فرمائی))۔ (مسلم: 856).
  • اسی دن آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اوراسی دن قیامت قائم ہوگی جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ((جمعہ کا دن تمام ایاّ م میں افضل ہے، اس میں آدم کی تخلیق ہوئی، اور اسی دن وہ بہشت میں داخل کئے گئے اور اسی دن وہاں سے نکالے گئے، اورقیامت بھی جمعہ کے دن آئے گی))۔ (مسلم: 854).

جمعہ کس پر فرض ہے؟

نماز جمعہ واجب ہے اس شخص پر جس میں ذیل کے شرائط پائے جاتے ہوں :

  1. مرد

چنانچہ عورت پر جمعہ واجب نہیں ہے۔

  1.  مکلّف 

 چنانچہ پاگل، چھوٹا جو نابالغ ہو اس پر جمعہ واجب نہیں ہے۔

  1. مقیم

 چنانچہ مسافر نیز جو شہروں سے باہر گاؤں اورجنگل میں رہتے ہیں ان پر جمعہ واجب نہیں ہے۔

نماز جمعہ کے احکام اور اس کا طریقہ:

  1. نماز جمعہ سے پہلے مسلمان غسل کرے اور اچھا لباس زیب تن کرے اور خطبہ سے پہلے مسجد کو جانے میں جلدی کرے۔
  2. مسلمان جامع مسجد میں جمع ہوتے ہیں اور ان کے آگے امام ہوتا ہے جو منبر پر چڑھ کر دو خطبہ دیتا ہے، ان دونوں کے درمیان مختصر بیٹھتا ہے، اس خطبہ میں اللہ سے ڈرنے کی ہدایت نیز انھیں نصیحتیں اورقرآن کی آیات پیش کرتا ہے 
  3. نمازیوں کو خطبہ سننا ضروری ہے، ان پربات کرنا اور خطبہ کو چھوڑ کر دوسری چیزوں میں مشغول ہونا حتیٰ کہ جائے نماز یا کنکریوں یا مٹی سے کھیلنا تک حرام ہے۔
    پھر امام منبر سے اترے، نماز کے ليے اقامت کہی جائے اور امام دو رکعت نماز پڑھائے، اس میں زور سے قراءت کرے۔

  4. لوگوں کی ایک تعداد جمع ہونے پر نماز جمعہ مسنون ہے، کسی بھی شخص کی کسی عذر کے سبب نماز جمعہ فوت ہو جائے یا نماز میں شریک نہیں ہو سکے تو وہ اس کے بدلے ظہر کی نماز پڑھے، جمعہ پڑھنا صحیح نہیں ہے۔

  5. جس کو جمعہ کی نماز نہیں ملی اس طرح سے کہ اسے امام کے ساتھ ایک رکعت سے بھی کم ملی تو وہ ظہر کی نماز پڑھیگا۔

  6. ہر وہ شخص جس پر جمعہ کی نماز واجب نہیں ہے جیسے عورت، مسافر، اگر یہ لوگ جمعہ کی نماز پڑھنے والوں کے ساتھ جمعہ پڑھیں گے تو یہ درست ہوگی اور ان سے ظہر کی نماز کا پڑھنا ساقط ہو جائے گا۔

وہ جنھیں جمعہ میں حاضر ہونا ضروری نہیں:

جن لوگوں پر جمعہ واجب ہے شریعت نے انھیں جمعہ کی نمازکے ليے آنا ضروری قرار دیا ہے، اورانھیں دنیا کے کسی کام کی مشغولیت کے سبب جمعہ سے غفلت کرنے پر تنبیہ کی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔ ((اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید وفروحت چھوڑدو یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو))۔ (الجمعة: 9)۔

اور بغیر کسی عذر شرعی کے نماز جمعہ کے لئے نہیں آتا اس کے دل پر چھاپ لگادی جاتی ہے۔ اس کے بارے میں آپ ﷺ نے تنبیہ فرمائی:۔ ((جو شخص تین جمعے سستی برتتے ہوئے بغیر کسی عذر کے ترک کردے اللہ تعالیٰ اس کے دل کو بند کر دیتا ہے))۔ (أبو داود: 1052، أحمد: 15498) قلب پر مہر لگانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت سے دور کر دیتا ہے، اور اس میں جہالت اورسختی پیدا کر دیتا ہے جیسے منافقین اورنافرمانوں کے دل۔

وہ عذر جس کی وجہ سے جمعہ چھوڑا جا سکتا ہے: ہر وہ چیز جس سے غیرمعمولی مشقت ہو یا وہ نقصان جس سے معیشت اورصحت متأثر ہو۔

اے ایمان والو جب جمعہ کے دن صلاۃ کے ليے پکارا جائے تو تجارت کو چھوڑ کر اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرو۔

کیا کام اورڈیوٹی جمعہ کے ليے عذر ہوسکتا ہے؟

اصل تو یہ ہےکہ وہ کام اور مصروفیتیں جوہمیشہ رہنے والی ہوں مسلمان کے جمعہ چھوڑنے کے ليے عذر نہیں بن سکتیں، اللہ تعالی ٰ ہمیں حکم فرماتا ہے کہ ہم جمعہ کی نماز کے لئے اپنے کام چھوڑکر اس کے لئے فارغ ہوجائیں، چنانچہ فرمان خداوندی ہے:۔ (( اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید وفروخت چھوڑدو))۔ (الجمعة: 9)۔ مسلمان کو تو چاہئے کہ اپنے لئے ایسی مشغولیتیں اختیار کرے جس میں وہ اللہ کے شعائر ادا کرسکے۔ اگرچہ ان کا مادّی فائدہ دوسرے کاموں کے اختیار کرنے سے کم ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔ ((اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔ اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو، اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا))۔(الطلاق: 2-3).

جمعہ چھوڑنے کے ليے کام کب عذر ہو سکتا ہے؟ 

وہ کام جو ہمیشہ کا ہو جمعہ کی نماز چھوڑنے کا عذر نہیں بن سکتا بجزء دو حالتوں کے :

  1.  ایسا کام جس میں کوئی عظیم مصلحت ہو اور اس کی تکمیل بغیر جمعہ چھوڑے نہیں ہوسکتی، اور یہ کام چھوڑدے تو بڑی خرابی رونما ہو اور اس کام کی تکمیل کے ليے اس کا کوئی نائب بھی نہ ہو۔

مثالیں:

  • ایمر جنسی حالات میں علاج و معالجہ کرنے والا ڈاکٹر۔
  • نگرانی کرنے والا گارڈ اورپولیس جس کے ذمہ لوگوں کے مال کی حفاظت ہو، اس طرح لوگوں کے گھروں کی چوری اورجرائم کے واقعات سے حفاظت کرنا ہو۔

  • وہ شخص جو بڑی فیکٹریوں وغیرہ کے کاموں کی دیکھ بھال کرتا ہواور ہر لحظہ ان کی نگرانی کرنا ضروری ہو۔

  1.  یہی کام اس کی روزی کا واحد ذریعہ ہو،اس کام کے علاوہ اور کوئی ذریعہ نہیں جواس کے کھانے پینے اور اس کے گھر والوں کی ضرورتیں پوری کرے تو وہ اسی کام میں برقرار رہ سکتا ہے اور ضرورت کے تحت ترک جمعہ کر سکتا ہے، تا آنکہ اسے دوسرا کام مل جائے یا اپنے اور گھر والوں کے کھانے پینے اور ضروری امور کو پورا کرنے کے لئے کسی کام کی ضرورت باقی نہ رہے، پھر بھی ضروری ہے کہ وہ دوسرے کام اور روزی کا دوسرا ذریعہ تلاش کرے۔

آسان رہنمائے مسلم

آسان رہنمائے مسلم کی ویب سائٹ کتاب "آسان رہنمائے مسلم" کا الکٹرانک نسخہ ہے۔ یہ شرکۃ الدلیل المعاصر کا ایک پروجیکٹ ہے، جسے زائد از پندرہ زبانوں میں تیار کیا گیا ہے، اور اس کے مشمولات متعدد معیاری الکٹرانک شکلوں میں موجود ہیں۔