You are here

وہ اخلاق جن کی اسلام نے مالی معاملات میں تا کید فرمائی:

جیسا کہ اسلام نے مالی معاملات کے احکام کی وضاحت فرمائی، اسی طرح اس ضمن میں کئى ایک اخلاق وآداب پر بھی زور دیا ہے، ان میں سےچند یہ ہیں:

امانت:

دوسروں کے ساتھ تجارتی معاملات میں چاہے وہ مسلمان ہوں یا کفار، امانت کو مسلمان کے اہم اخلاق میں بتایا، مندرجہ ذیل کی دلیلوں سے اس کی اہمیت واضح ہوتی ہے:

  • اللہ تعالیٰ نے فرمایا :۔ ((اللہ تعالیٰ تمہیں تأکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ !))۔ (النساء: 58).
  • رسول اللہ ﷺ نے امانت کے ضائع ہو نے کو اور اس میں خیانت کے واقع ہونے کو نفاق کی علامات میں شمار کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :۔ ((منافق کی تین علامتیں ہیں، جب بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو پورا نہیں کرتا، جب اسکے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو اس میں خیانت کرتا ہے))۔ (البخاري: 33، مسلم: 59).
  • امانت داری مؤمنین کی اہم صفات میں سے ایک ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔ ((یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی۔جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔ جو لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں۔جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں۔جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔بجز اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے، یقیناً یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں، جو اس کے سوا کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کر جانے والے ہیں۔ جو اپنی امانتوں اور وعدے کی حفاظت کرنے والے ہیں))۔ (المؤ منون: 1-9)۔اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے امانت میں خیانت کرنے والے سے ایمان کی نفی فرمائی چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: ((وہ شخص مؤ من نہیں ہے جو امانت دار نہیں ہے))۔ (أحمد: 12567)۔
  • رسول اللہ ﷺ کو مکّہ میں بعثت سے قبل صادق وامین کہا جاتا تھا کیونکہ آپ ﷺ اپنے تعلقات اور معاملات میں امانت کی علامت تھے۔

سچاّئی:

سچائی اور وضاحت ان اہم باتوں میں سے ہے جن کی اسلام نے بڑی اہمیت بتائى ہے۔

  • آپ ﷺ نے بیچنے والے، خریدنے والے کے بارے میں فرمایا :۔ ((اگر دونوں سچ کہیں گے اور بیان کریں گے تو ان کی بیع میں برکت ہوگی، اور اگر چھپا ئیں گے اور جھوٹ بولیں گے تو ان کی بیع میں برکت ختم ہوجائے گی))۔ (بخاری: 1973۔ مسلم: 1532)
  • نبی ﷺ نے فرمایا:۔ ((سچائی کوپکڑے رہو! کیونکہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے، اور نیکی جنتّ کی طرف لے جاتی ہے، اور آدمی سچ بولتے رہتا ہے اور سچائى کی طلب میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کےپاس اسے «صدیق» لکھ دیا جاتا ہے)) (مسلم: 2607)۔
  • اسلام نے اپنی چیز کو بیچنےکی خاطر اس کی تعریف میں جھوٹی قسم کھانے کو گناہ کبیرہ قرار دیا ہے، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا :۔ ((تین لوگوں سے قیامت کے دن اللہ بات نہیں کرے گا اور نہ انھیں دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کر ے گا اور ان کو درد ناک عذاب ہوگا)) اور ان میں ((جھوٹی قسم کے ذریعہ اپنی چیز کو بیچنے والے)) کا تذکرہ فرمایا۔(مسلم : 106)۔

کام میں پختگی اورحسن وخوبی:

ہر مسلمان پر ضروری ہے چاہے وہ صاحب صناعت ہو یا کوئی بھی کام کر نے والا ہو، اپنے کام کو پختہ اور احسن طریقہ سے انجام دے۔

اللہ سبحانہ نے ہر چیز پر احسان (خوش اسلوبی) کو فرض قرار دیا ہے، اور زندگی کے ہر شعبہ میں اس کی رعایت کا حکم دیا ہے، حتی کہ ان معاملات میں بھی جن میں ابتدائی طور پر کام میں حسن و خوبی اور پختگی مشکل نظر آتی ہے، جیسے شکا ر کرنا اور ذبح کرنا، آپ ﷺ نے فرمایا ((اللہ نے ہر چیز پر احسان کو فرض کیا ہے، جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو، اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، اپنی چھری کو تیز کرو اور اپنے ذبیحہ کو راحت دو))۔(مسلم: 1955)۔

نبی ﷺ ایک جنازہ میں شریک ہوئے چنانچہ آپ ﷺ صحابہ رضی اللہ عنہ کو قبر کے برابر کرنے اوراچھی طرح تدفین کرنے کی ہدایت دے رہے تھے، پھر آپ ﷺ ان کی جانب متوجہ ہوکر فرمایا ((یہ میت کو نہ فائدہ دینے والا ہے اورنہ نقصان، لیکن اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ آدمی کام کرے تو ٹھیک کرے))۔ (بیھقی شعب الایمان میں: 5315) دوسرا لفظ: ((بے شک اللہ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ آدمی کام کرے تو پختگی سے کام کرے))۔ (ابو یعلی: 4386۔شعب الایمان: 5312)۔  (دیکھئے ص195)

آسان رہنمائے مسلم

آسان رہنمائے مسلم کی ویب سائٹ کتاب "آسان رہنمائے مسلم" کا الکٹرانک نسخہ ہے۔ یہ شرکۃ الدلیل المعاصر کا ایک پروجیکٹ ہے، جسے زائد از پندرہ زبانوں میں تیار کیا گیا ہے، اور اس کے مشمولات متعدد معیاری الکٹرانک شکلوں میں موجود ہیں۔