المحرم لكسبه

2- دھوکہ اور ناواقفیت

اس سے مراد ہر وہ معاملہ ہے جس میں کچھ ناواقفیت جھگڑے اور خصومت یا ایک دوسرے پر ظلم کا سبب بن سکتی ہے۔

اسلام نے اسے جھگڑے یا ظلم یا دھوکہ کے سد باب کے طور پر حرام قرار دیا ہے، اگرچہ لوگ آپس میں رضامند ہوں پھر بھی وہ حرام ہے، نبی ﷺ نے دھوکہ کی خرید وفروخت سے منع فرمایا۔‎(مسلم: 1513)۔

ہر وہ معاملہ جو کسی نا معلوم مقدار کو شامل ہو وہ مستقبل میں اختلاف ونزاع کا سبب بن سکتا ہے۔ 

دھوکہ اور ناواقفیت کی خرید وفروخت کی مثالیں:

  1. پھلوں کی پکنے سے پہلے خرید وفروخت کرنا، چنانچہ نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا کیونکہ اس میں اس کے خراب ہونے کا احتمال ہے۔
  2. ایک صندوق خریدنے کے لئے مال ادا کرے، جب کہ اسے نہیں معلوم کہ اس میں قیمتی چیز ہے یا بیکار چیز ہے۔

نا واقفیت کب مؤثر ہوتی ہے ؟

دھوکہ اور ناواقفیت معاملہ کی حرمت میں اسی وقت اثر انداز ہوتی ہے جب وہ زیادہ ہو، اور یہ اصل معاملے میں ہوتا ہے اس کے ذیلی امور میں نہیں۔ مسلمان کے لئے جائز ہے کہ کوئی گھر خریدے جب کہ وہ اس کی تعمیر اور رنگ وروغن میں استعمال کردہ چیزوں کو نہیں جانتا کیونکہیہ ناواقفیت ہلکی ہے، پھر یہ اصل معاملہ میں نہیں بلکہ اس کی ذیلی چیزوں میں ہے۔

3-  ظلم اور لوگوں کے مال کو باطل طریقہ سے حاصل کرنا 

ظلم ان خراب ترین افعال میں سےہے جن سے اسلام نے ڈرایا ہے، آپﷺ نے فرمایا :۔ ((بغیر کسی حق کے لوگوں کے مال کو حاصل کرنا اگرچہ تھوڑا کیوں نہ ہو بڑا گناہ اور جرم ہے جس کے مر تکب کو آخرت میں سخت سزا کا سامنا کرنا ہوگا، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا :۔ ((جو شخص کسی زمین میں سے ایک بالشت کے برابر ناجائز قبضہ کرکے ظلم کرتا ہے، قیامت کے دن اسے زمین کی سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا))                 (البخاري: 2321، مسلم: 1610).

معاملات میں ظلم کی مثالیں:

  1. دھوکہ دینا اور لوگوں کو چکمہ دینا :تاکہ ان کا مال باطل طریقہ سے کھائے۔ یہ بڑا گناہ ہے، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا :۔ ((جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے))۔ (مسلم: 101) اس حدیث کا سبب یہ ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ بازار گئے، کھانے کی چیز کا ایک ڈھیر دیکھا، آپ ﷺ نے اس میں اپنے ہاتھ کو داخل کیا تو ہاتھ کو نمی لگی، آپ ﷺ نے بیچنے والے سے کہا:۔ ((اے غلہ بیچنے والے یہ کیا ہے؟)) اس نے کہا رات بارش ہو گئى تھی اے اللہ کے رسول، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ((گیلی چیز کو اوپر کیوں نہ کردیا تاکہ لوگ اسے دیکھیں؟)) پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ((جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے))۔ (ترمذی: ‎1315)
  2. قانون سے کھلواڑ کرنا :تاکہ مال کو ناحق ظلم سے حاصل کیا جاسکے، انسان کے پاس بسا اوقات چالاکی اور ہوشیاری ہوتی ہے وہ اسے استعمال کر کے قانون کے ذریعہ دوسرے کے مال کو اینٹھ لیتا ہے، لیکن قاضی کا فیصلہ باطل طریقہ کو حق نہیں بنادیتا جیساکہ آپ ﷺ نے فرمایا:۔ ((میں انسان ہوں، تم میرے پاس جھگڑے لاتے ہو، ہوسکتا ہے تم میں سے بعض اپنی دلیل پیش کرنے میں تیز وطرار ہو، اور میں دوسرے کا حق اس کو دوں،تو وہ اسے(قطعاً) حلال نہ سمجھے، میں نے اس کے لیے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ كر دیا ہے))۔ (بخاری :6748، مسلم :1713)۔
  3. جبر و زبردستی: معاملہ میں کسی بھی قسم کی جبر و زبر دستی کرنا ناجائز ہے، اور معاملات بغیر باہمی رضا مندی کے درست نہیں ہیں، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا :۔ ((خر ید و فروخت با ہمی رضا مندی کی بنیاد پر ہے))۔                 (ابن ماجه 2185).
  4. رشوت: وہ یہ کہ آدمی مال دے یا کوئی خدمت پیش کرے اس غرض سے کہ اسے غیر کا حق حاصل ہوجائے، اور یہ ظلم کی بدترین قسم اور سخت گناہ کی بات ہے، رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت بھیجا ہے: ((ترمذی: 1337))۔
     

جس کسی معاشرے میں رشوت سرایت کر جائے تو ایسا معاشرہ فساد زدہ ہوجاتا ہے، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے اور اس کی تعمیر وترقی رک جاتی ہے۔

آسان رہنمائے مسلم

آسان رہنمائے مسلم کی ویب سائٹ کتاب "آسان رہنمائے مسلم" کا الکٹرانک نسخہ ہے۔ یہ شرکۃ الدلیل المعاصر کا ایک پروجیکٹ ہے، جسے زائد از پندرہ زبانوں میں تیار کیا گیا ہے، اور اس کے مشمولات متعدد معیاری الکٹرانک شکلوں میں موجود ہیں۔